بچے میں خود اعتمادی کیسے پیدا کریں
یہ ضروری سوال عمومی طور پر پوچھا جاتا ہے کہ بچے میں خود اعتمادی کیسے پیدا کی جائے؟ لیکن اس کے مدلل جواب سے پہلے اس سوال کا جواب جاننا زیادہ ضروری ہے کہ بچے میں خود اعتمادی کیوں پیدا کی جائے ۔۔۔کیونکہ خود اعتمادی ایک ایسا ٹانک ہے جو اگر بروقت بچے کو نہ پلایا جائے تو عین ممکن ہے کہ جسمانی طور پر تو بچے کا قد بڑا ہو جائے مگر ذہنی طور پر اس کا قد چھوٹا رہ جائے ۔۔۔
دراصل خود اعتمادی ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جو بچے کی ہر ہر ادا میں دکھائی دیتی ہے جو اس کی آواز میں سنائی دیتی ہے اور چال ڈھال میں بھی چلتی پھرتی نظر آتی ہے ۔۔۔
گویا قدم بہ قدم بچے کی تعلیمی اور تربیتی میدان میں اعتماد کی موجودگی یا عدم موجودگی کی عکاسی ہوتی رہتی ہے جس سے والدین یا ٹیچرز باآسانی اس کی آئندہ زندگی کی کوالٹی کا تعین کر سکتے ہیں ۔یہ خبر تو اچھی ہے کہ ہر بچہ جس طرح قدرتی طور پر ظاہری جسمانی اعضاء ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے اسی طرح ذہنی قوت بھی ساتھ لیکر آتا ہے البتہ اس کی عملی اظہار کی صلاحیت سب سے پہلے والدین اپنے اندازِ ترتیب ،روئیے اور سب سے بڑھ کر اپنے لب و لہجے سے اپنے بچے میں ٹرانسفر کرتے ہیں ۔والدین کی گود ،والدین کا لمس اور والدین کی گفتگو بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اس لئے لازم ہے کہ اس درسگاہ میں وہ تمام معاونات فراہم کی جائیں جو بچے کی شخصی تعمیر میں کنکریٹ کا کردار ادا کر سکے اور اس کو خود اعتمادی کی بھرپور طاقت اور مضبوطی عطا کرے ۔ہماری اولاد میں پہلے سے موجود اس صلاحیت کو باہر لانے کے لئے قطعاً ضروری نہیں کہ ہم اپنے دن رات ایک کر دیں اور بچے کے سامنے نصیحتوں کی پٹاری کھول کر بیٹھ جائیں کہ بیٹا خود اعتمادی کا راستہ اپناؤ یہ یہ کرو وہ وہ نہ کرو وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔
آسان ترین راستہ تو یہ ہے کہ بحیثیت والدین اپنی تخلیق یعنی اپنی اولاد پر سب سے پہلے تو خود بھروسہ کریں اپنے اندر یقین کو جگہ دیں کہ آپ کا بچہ آفاقی شاہکار ہے جس کو جنم آپ نے دیا ہے آپ کی تخلیق میں وہ تمام خوبیاں پہلے سے موجود ہیں جو آپ اس میں دیکھنا چاہتے ہیں،جو استاد بھی اپنے طالب علم میں دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر ایک معاشرہ اپنے ہر فرد میں دیکھنا چاہتا ہے ۔۔۔
عام طور پر خیال کیا جا تا ہے کہ بچے میں خود اعتمادی پیدا کرنا ایک جہدِ مسلسل ہے یا زیادہ توجہ طلب اور وقت طلب کام ہے جی نہیں ایسا تو نہیں ہے ۔۔۔
بلکہ یہ تو بس روزمرہ باقاعدہ ادا کرنے والی ایک ذمہ داری ہے جس کو کچھ عرصے اپنی زندگی کی الجھنوں کو پسِ پشت ڈال کر بچے کی ابتدائی عمر کے پانچ سات سال تک اپنے انداز ،لمس، لفظوں کے چناؤ اور لہجے کی نرماہٹ سے اسے یقین دلانا ہے کہ میرا بچہ بہت ذہین ہے ،بہت لائق ہے،بہت با ادب اور پُر اعتماد ہے ۔۔۔
اگر آج ناکام ہو بھی گئے یا اچھی پوزیشن نہیں لے سکے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔
ہمیں یقین ہے تھوڑی سی اور کوشش سے جیت جاؤ گے ۔یا تھوڑی سی اور محنت سے بہترین گریڈ حاصل کر لو گے ۔۔۔یقین مانئیے والدین اپنے بچے کو جو بھی یقین دلائیں گے وہی یقین بچے کا اوڑھنا بچھونا بن جائے گا ۔۔۔کبھی مت بھولیں کہ اگر غلطی سے بھی آپ نے کوئی منفی جملہ دہرا دیا مثلاً آپ یہ نہیں کر سکتے ،آپ بزدل ہو ،آپ ناکام انسان ہو یا بہت ڈھیٹ اور نالائق ہو تو تیار ہوجائیے کہ اب بچہ آپ کی اس بات کو بھی سچ مان کر یقین کر لے گا اور خودکا فطری یعنی خداداد اعتماد کھو دے گا ۔۔۔اگر یقین نہ آئے تو اپنے قریبی رشتہ داروں ،دور پار کے تعلق داروں یا راہ چلتے پریشان حال افراد کی طرف گہری نگاہ ڈالیں اور محسوس کریں کہ وہ کہیں نہ کہیں بچپن کے اس خلا میں معلق دکھائی دیتے ہیں جب ان کو بار بار بتایا گیا کہ تم بہت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہاں اس خالی جگہ میں کوئی بھی منفی جملہ فٹ کر دیجئے ۔جو بظاہر والدین بچےسے اپنی محبت کا اظہار فکر انگیز لب ولہجے میں کرتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں مثلاً بیٹا مجھے تمھاری بہت فکر ہے تم دن بہ دن نالائق اور ڈھیٹ ہوتے جا رہے ہو ۔۔۔تم یہ نہیں کر سکتے تم وہ نہیں کر سکتے یا تمھاری پریشانی نے میری زندگی اجیرن کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ بھئی ایسی فکر سے تو اچھا ہے کہ آپ لمبی تان کر سو جائیں اور اپنے بچےسے توجہ ہی ہٹالیں ۔۔۔اور اگر آپ کو سچ مچ بچے کی بہت فکر ہے تو اٹھئے ،اور آگے بڑھ کر پھر سے شروع کیجئے اگر بچہ ابتدائی عمر سے نکل کر اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے تو بھی خیر ہے کیونکہ بحیثیت کوچ میں جانتی ہوں کہ ہر ماں باپ کی طرح آپ کو بھی اپنا بچہ بہت پیارا ہے ۔یقیناً آپ بچے سے بہت پیار کرتے ہیں مگر خدارہ جتنا پیار کرتے ہیں اتنی اس کی عزت بھی کیجئے کیونکہ بچہ پیار کے برابر برابر عزت بھی چاہتا ہے ۔۔۔برائے مہربانی یہ دعوے کرنا بند کریں کہ بیٹا جو پٹائی کرتے ہیں وہ تو تمہارے ہی بھلے کےلئے کرتے ہیں یا ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں تو تمھاری بہتری کے لئے کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
کچھ مت کیجئے بس ۔۔۔ بچے کو اپنے یقین سے یہ یقین دلا دیجئے کہ بیٹا تم بہت اچھے ہو ،تم بہت لائق ہو ،تم پُر اعتماد ہو ہمیں تمھاری جیت کا یقین ہے ۔۔۔جی ہاں بس اتنا ہی ۔۔۔۔۔۔