ہمارے بچے،ہمارے شاگرد یا ہمارے پیارے رشتوں کے پیارے بچے اکثر ویسا نہیں کرتے جیسا ہم چاہتے ہیں ،وہ سب نہیں کرتے جس کا ہم تقاضا کرتے ہیں ۔حالانکہ ہم تو وہی تقاضا کرتے ہیں جو ہم جانتے ہیں کہ وہ کر سکتے ہیں یا پھر جس میں ان کی بھلائی ہوتی ہے اور ہم اکثر ان سے ویسا بننے کی ہدایت کرتے ہیں جیسا ہم نے خود کو ان کے سامنے ثابت کیا ہوتا ہے مگر ۔۔۔
درج بالا اس اعتراف سے یہ بحث تو ختم ہو جاتی ہے کہ یہاں ان والدین یا بڑوں کی بات نہیں ہو رہی جو اپنے بچوں کے سامنے رول ماڈل نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ان کو عمل کی تحریک نہیں ملتی اور وہ نصیحت کو سُنی ان سنی کر دیتے ہیں اور من مانی زندگی کے گھن چکر میں پھنس کر کامیابی کے سنہرے وقت کو ناکامیوں کے گر دو غبار کے حوالے کر بیٹھتے ہیں ۔
اصل مسئلہ تب سر اٹھاتا ہے جب والدین رول ماڈل ہو کر بھی بچوں کو تبدیل نہیں کر پاتے ۔ان کا خود پر اعتماد بحال نہیں کروا سکتے ۔
سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوتے ہوئے بھی کہیں نہ کہیں ایسی کونسی ممکنہ غلطی ہو سکتی ہے جو ہمارے بچوں میں تبدیلی کو ممکن نہیں بنا پا رہی ۔۔۔میری ہر قاری سے درخواست ہے کہ اس تلاش کے متلاشی لکھاری کا ساتھ دیجئے اس امید پر کہ شاید بات بن جائے۔
ایک نظر اپنے طرزِ تربیت پر ڈالئے اور سوچئیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم یا ہمارے گھر کے بزرگ ہمارے بچوں پر اپنی مشروط محبتوں اور ڈھیر ساری توقعات کا بوجھ ایک ساتھ ان کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیتے ہیں ۔۔۔شرطوں اور توقعات سے گوندھے ہوئے جملے کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں ۔۔۔
دیکھو بیٹا غور سے سُنو ،ویسا ہی کرو جیسا کہا ہے ۔کیونکہ جو بھی کہا جا رہا ہے اسی میں ہی آپ کا بھلا ہے ۔۔۔
ہماری طرف سے یہ آخری موقع ہے پھر گلہ نہ کرنا ۔۔۔
ایسا نہ ہو اس بار بھی مایوس کر دو ۔ایسا ہوا تو پھر جو جی میں آئے کرتے رہنا کیونکہ اب ہم میں مزید سکت نہیں ہے آپ کی ناکامیاں جھیلنے کی ۔۔۔
ہم ہر معاونت اور سہولت دے رہے ہیں آپ نے تو صرف رزلٹ دینا ہے ،آئندہ کہنا نہ مانا تو سزا ملے گی ۔۔۔وغیرہ وغیرہ
یہاں کہیں نہ کہیں ہم موازنے اور ججمنٹ کا ایندھن بھی شامل کر دیتے ہیں ہیں کہ آپ فلاں فلاں کی طرح کیوں نہیں بنتے۔۔۔آپ نے ان کی طرح یا ان سے بڑھ کر خود کو ثابت نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے ۔
(سب سے بڑا روگ کیا کہیں گے لوگ)
ہوتا کچھ یوں کہ اپنے بڑوں کے موازنے ،ججمنٹ ،مشروط محبتوں کے خوف اور توقعات کے بوجھ اٹھائے اٹھائے پہلے پہل بچے کی شخصی آزادی کی خوبصورتی ماند پڑنے لگتی ہے پھر اعتماد کی کمی سر اٹھانے لگتی ہے پھر یہی کمی اپنے موبائل یا ٹیب کے ساتھ تنہا گوشے میں رہنے کی رغبت دینے لگتی ہے ۔پھر وہی تنہائی اس کے اندر چڑچڑاپن یا ضدی پن لے کر آتی ہے اور ان میں بغاوت سر اٹھانے لگتی ہے ، کبھی بے وجہ غصہ کر کے کبھی کھانے سے منہ بسور کر ۔۔۔کبھی اپنے اندازو اطوار سے اپنے اندر کے ڈرے ہوئے مگر باغی بچے کو باہر لے آتے ہیں اور تب ہم بڑے اپنا سر پکڑ کر سوچتے رہ جاتے ہیں کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی اب ہم ایسا کیا کریں کہ بچے وہ کریں جو ہم چاہتے ہیں کیونکہ ہم چاہتے تو وہی ہیں جو بچوں کے لئے اچھا ہوتا ہے ۔۔۔۔لیکن
آج ذرا اپنے بچوں سے تھوڑے سے فاصلے پر کھڑے ہو کر ان کی طرف دیکھئے اور غور کیجئے ۔۔۔کہیں ہماری مشروط معاونت ۔۔۔توقعات سے جڑی ہوئی محبت ان کے اور آپ کے خوابوں کی تعبیر کی راہ میں روکاوٹ تو نہیں ۔۔۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ان سے محبت کی شدت میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ انجانے میں اپنے سارے ڈر ،خوف اور توقعات ان کے اندر انڈیل دیتے ہیں اگر ایسا لگے تو خدارہ ۔۔۔بچوں کو اپنا اعتبار دے کر تو دیکھیں ۔۔۔انہیں بتائیں ناااا کہ بیٹا ہماری دلی خواہش تو یہ ہے کہ آپ بہترین بنو اور کامیابی کی ہر منزل طے کرو ۔۔۔لیکن کبھی ہماری خواہش کو شرط نہ سمجھنا کیونکہ ہمیں آپ سے بلا مشروط پیار ہے ۔۔۔ہم ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔آپ جیتو یا ہارو ہمیں تو بس آپ سے پیار ہے ۔۔۔بطور لکھاری مجھے لگتا ہے کہ آپ کے روزانہ گاہے بگاہے دہرائے جانے والے ایسے چند جملے بچے کے اندر طمانیت بھر دیں گے اور یہی طمانیت اس کو خود اعتمادی کی طاقت دے گی اور یہ طاقت اسے اسی کامیابی کا تحفہ دے گی جو ہم بھی چاہتے ہیں ۔
مت بھولیں کہ ڈر ،شرطوں کا بوجھ اور توقعات کا خوف انہیں آپ کی اس حقیقی محبت کے احساس سے دور کر دیتا ہے جس کو چھو کر اور محسوس کر کے ہمارے بچے عارضی ناکامیوں کے اس پار دائمی کامیابیوں کا مینار کھڑا کرنے کی بھرپور صلاحیت اور سکت رکھتے ہیں جو آپ بھی چاہتے ہیں ،جو ہم بھی چاہتے ہیں اور جو سب چاہتے ہیں ۔۔۔
بقول علامہ اقبال
“شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات”